ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اپنے جاسوسوں کو صحافیوں کی شکل میں بھیجتے ہیں:سابق ایرانی وزیر

اپنے جاسوسوں کو صحافیوں کی شکل میں بھیجتے ہیں:سابق ایرانی وزیر

Wed, 19 Jul 2017 15:31:04    S.O. News Service

لندن،18؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ایران کے سابق وزیرِ انٹیلی جنس علی فلاحیان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں سکیورٹی ادارے معلومات جمع کرنے کے واسطے اپنے ایجنٹوں کو صحافی یا تاجر کے روپ میں بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ فلاحیان نے یہ انکشاف اتوار کے روز یوٹیوب پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کیا۔صحافی حسین دہباشی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فلاحیان نے بتایا کہ90 کی دہائی میں وزارت انٹیلی جنس نے اقتصادی سرگرمیاں بھی انجام دیں ،جن کا مقصد اندرون و بیرون ملک معلومات اکٹھی کرنے کے واسطے انٹیلی جنس کی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے تاہم اس کا ٹیمپو کم ہو گیا ہے۔فلاحیان نے واضح کیا کہ یہ ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم اپنے کسی ایجنٹ کو بیرون ملک مثلا جرمنی ، روس اور امریکہ وغیرہ انٹیلی جنس ایجنٹ کے روپ میں بھیج دیں۔یہ اعتراف ممکنہ طور پر کسی ایرانی وزیر کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا بیان ہوگا۔اسی واسطے ایرانی حلقوں نے سوشل میڈیا پر اس کو وسیع پیمانے پر پھیلایا ہے۔ایرانی نظام کی جانب سے 1988میں اجتماعی سزائے موت اور پھانسیوں کے حوالے سے فلاحیان نے کہا کہ اس معاملے میں خمینی کا موقف سب سے زیادہ متشدد تھا۔ وہ سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مصر رہا۔ ان قیدیوں میں اکثریت کا تعلق حزب اختلاف کی تنظیم مجاہدین خلق سے تھا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ،خمینی جن سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سلانے کے درپے تھا ،ان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔البتہ فلاحیان کا کہنا تھا کہ انہیں 1988میں اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے والے قیدیوں کی تعداد کا علم نہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہو گی۔یاد رہے کہ بین الاقوامی پولیس (انٹرپول)کی جانب سے علی فلاحیان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ وارنٹ ارجنٹائن کی ایک عدالت کی درخواست پر جاری کیے گئے۔ عدالت کا موقف تھا کہ فلاحیان اور دیگر ایرانی حکام 1994میں دارالحکومت بیونس آئرس میں یہودیوں کے ایک مرکز پر دھماکے کی کارروائی میں ملوث ہیں جس کے نتیجے میں 85افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔


Share: